Famous Urdu Ghazal Zeeshan Ameer Saleemi

 

 ذیشانؔ امیر سلیمی کی غزل کا فکری و جمالیاتی مطالعہ 


غزل

نہ  تو سنگ  پر  ہی سوال  رکھ، نہ   چراغِ شب  کو   گلاب   دے
یہ جو حسن ہے سرِ بے خودی، اسے صرف چشمِ خراب دے

ترے حسن سے  یہ  گماں ہوا، کہ  کمال  خود  بھی سوال  ہے
جو ٹھہر گیا ہے نظر  میں ہی، اسے ذوقِ دل کا نصاب دے

نہ  شمار   میں  اسے   لائیے، نہ  مثال   میں   اسے   باندھیے
یہ جو چیز ہے سرِ معجزہ، اسے صرف ہونے کا باب دے

نہ لکھوں میں اس کو کسی ورق  پہ، نہ  دوں میں اس کو کوئی لقب
یہ  جو  نام  ہے  مرے  خواب  کا، اسے  خامشی  کا  حجاب  دے

نہ  چھوا اسے کبھی حرف نے، نہ  اسے  خبر کسی لفظ کی
یہ  جو   دید   ہے   حدِ آگہی،  مجھے  بس نظر  کا  جواب  دے

نہ چلے یہ وقت کی دھوپ میں، نہ ڈھلے یہ شام کے رنگ میں
یہ جو  روپ ہے ترے جسم کا، اسے لمحۂ بے حساب دے

نہ پلٹ  کے دیکھ کسی طرف، نہ کسی  کی سمت جھکو کہیں
یہ  جو  شوق   ہے   سرِ  دوستی، اسے   یار   صدقۂ   ناب  دے

نہ     اسے    خراجِ     نظر     کہو،    نہ     اسے      سلامِ    سخن     کہو
یہ جو لحن ہے مرے درد کا، اسے سانس بھر کا عتاب دے

نہ   صدا   کی  طرح   اسے   اٹھا،   نہ سکوت  میں اسے   دفن  کر
یہ جو لمس ہے ترے لمس کا، اسے یاد بھر  کا  عذاب  دے

نہ شمار میں  اسے  گھول  دے،  نہ خیال میں اسے تول دے
یہ   جو  راز  ہے ترے  نام  کا، اسے  دل میں مہرِ نقاب دے

نہ     اسے     جوازِ    وصال   کر،   نہ   اسے     دلیلِ    ملال     کر
یہ جو آہ ہے   سرِ   عاشقی، اسے   دردِ   شوق   کا   باب   دے

نہ غنیم   جان   کے   چھوڑ    دے،  نہ   رفیق   جان   کے  آزما
یہ جو راہ ہے سرِ جستجو، اسے   خاکِ  دل  میں کتاب   دے

نہ    غبارِ      نفس      اسے          بنا،      نہ     غزالِ     نفس      اسے       بنا
یہ جو خوشبو ہے ترے جسم کی، اسے باغِ لمس کا خواب دے

ذیشانؔ امیر سلیمی

تبصرہ نگار

ڈاکٹر فہد رضا علوی
(پاکستانی ادیب، نقاد و محقق  مقیم: شارجہ، متحدہ عرب امارات)

ذیشانؔ امیر سلیمی کی یہ غزل اردو غزل کے اس نادر اور کم یاب شعری رویّے کی نمائندہ ہے جہاں شاعر اظہار سے پہلے تحفظِ معنی کو مقدم رکھتا ہے۔ یہ کلام جذبات کی بے مہار روانی نہیں بلکہ احساس کی تہذیب یافتہ ترتیب ہے۔ شاعرِ ہجر کے طور پر ذیشانؔ امیر سلیمی یہاں فراق کو محض شخصی واردات نہیں بلکہ فکری اور روحانی تجربہ بنا دیتے ہیں، جہاں ہر لفظ اپنے کہے جانے سے پہلے اپنے نہ کہے جانے کا جواز رکھتا ہے۔

نہ تو سنگ پر ہی سوال رکھ، نہ چراغِ شب کو گلاب دے
یہ جو حسن ہے سرِ بے خودی، اسے صرف چشمِ خراب دے

اس مطلع میں شاعر سوال اور حسن دونوں کو ان کے اخلاقی دائرے میں رکھتا ہے۔ سنگ پر سوال نہ رکھنا اس شعور کی علامت ہے کہ ہر درد کی فریاد مناسب نہیں ہوتی۔ چراغِ شب کو گلاب نہ دینا حسن کی نمائشی تقدیس سے انکار ہے۔ حسن کو صرف چشمِ خراب کے حوالے کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جمال کی اصل پہچان صرف وہی نگاہ رکھتی ہے جو خود بھی کسی درجے کی داخلی شکستگی سے آشنا ہو۔

ترے حسن سے یہ گماں ہوا، کہ کمال خود بھی سوال ہے
جو ٹھہر گیا ہے نظر میں ہی، اسے ذوقِ دل کا نصاب دے

یہ شعر حسن کو حتمی جواب نہیں بلکہ ایک مسلسل سوال بنا دیتا ہے۔ شاعر کے نزدیک کمال وہ نہیں جو مکمل ہو، بلکہ وہ ہے جو ذہن کو بے چین رکھے۔ نظر میں ٹھہر جانے والی شے کو ذوقِ دل کا نصاب کہنا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اصل تعلیم وہ ہے جو دل میں جذب ہو، نہ کہ محض عقل کے حافظے میں محفوظ رہے۔

نہ شمار میں اسے لائیے، نہ مثال میں اسے باندھیے
یہ جو چیز ہے سرِ معجزہ، اسے صرف ہونے کا باب دے

یہ شعر پیمائش، تحدید اور تشبیہ کی تمام روایتوں سے انکار کرتا ہے۔ معجزہ وہی ہے جو شمار اور مثال سے ماورا ہو۔ شاعر “ہونے” کو ایک مستقل باب بنا کر وجودی شعور کی اعلیٰ سطح کو چھوتا ہے، جہاں وجود خود اپنی دلیل بن جاتا ہے۔

نہ لکھوں میں اس کو کسی ورق پہ، نہ دوں میں اس کو کوئی لقب
یہ جو نام ہے مرے خواب کا، اسے خامشی کا حجاب دے

یہ شعر خواب کو لفظی قید سے آزاد کرتا ہے۔ شاعر خواب کو نام دینے سے انکار کر کے اسے خاموشی کے حجاب میں محفوظ رکھتا ہے۔ یہاں خاموشی فقدان نہیں بلکہ تقدیس کا استعارہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں احترام، اظہار پر غالب آ جاتا ہے۔

نہ چھوا اسے کبھی حرف نے، نہ اسے خبر کسی لفظ کی
یہ جو دید ہے حدِ آگہی، مجھے بس نظر کا جواب دے

یہاں دید علم کی آخری سرحد بن جاتی ہے۔ شاعر لفظ اور حرف کے بعد نظر کی بات کرتا ہے۔ یہ شعر صوفیانہ مشاہدے کی وہ سطح ہے جہاں سوال باقی نہیں رہتا، صرف مشاہدہ رہ جاتا ہے۔

نہ چلے یہ وقت کی دھوپ میں، نہ ڈھلے یہ شام کے رنگ میں
یہ جو روپ ہے ترے جسم کا، اسے لمحۂ بے حساب دے

یہ شعر حسن کو وقت کے جبر سے آزاد کرتا ہے۔ “لمحۂ بے حساب” اس حسن کا استعارہ ہے جو نہ آغاز مانتا ہے نہ انجام۔ یہاں جسم زمانی شے نہیں رہتا بلکہ ایک ازلی کیفیت میں ڈھل جاتا ہے۔

نہ پلٹ کے دیکھ کسی طرف، نہ کسی کی سمت جھکو کہیں
یہ جو شوق ہے سرِ دوستی، اسے یار صدقۂ ناب دے

یہ شعر دوستی کو خالص وفاداری اور غیر مشروط وابستگی کا نام دیتا ہے۔ پلٹ کر نہ دیکھنا خودداری کی علامت ہے اور نہ جھکنا باطنی استقامت کا نشان۔ صدقۂ ناب عشق کی بے لوث قربانی کا استعارہ ہے۔

نہ اسے خراجِ نظر کہو، نہ اسے سلامِ سخن کہو
یہ جو لحن ہے مرے درد کا، اسے سانس بھر کا عتاب دے

یہ شعر درد کو رسمی اعتراف اور خطیبانہ اظہار سے بچاتا ہے۔ شاعر درد کو محض ایک سانس جتنا عتاب دیتا ہے۔ یہی اختصار اس درد کی سچائی کو بڑھا دیتا ہے۔

نہ صدا کی طرح اسے اٹھا، نہ سکوت میں اسے دفن کر
یہ جو لمس ہے ترے لمس کا، اسے یاد بھر کا عذاب دے

یہاں لمس نہ چیخ بنتا ہے نہ فراموشی۔ شاعر اسے یاد کی صورت میں ایک مستقل عذاب بنا دیتا ہے۔ یہی درمیانی کیفیت عشق کی سب سے معتبر صورت ہے۔

نہ شمار میں اسے گھول دے، نہ خیال میں اسے تول دے
یہ جو راز ہے ترے نام کا، اسے دل میں مہرِ نقاب دے

یہ شعر راز کے احترام کا اعلان ہے۔ شاعر نام کو بھی راز بنا کر دل میں دفن کرتا ہے۔ مہرِ نقاب وفا، امانت اور باطنی شرافت کی علامت ہے۔

نہ اسے جوازِ وصال کر، نہ اسے دلیلِ ملال کر
یہ جو آہ ہے سرِ عاشقی، اسے دردِ شوق کا باب دے

یہ شعر عشق کو انجام سے آزاد کر دیتا ہے۔ نہ وصال کی دلیل، نہ ملال کا جواز۔ عشق یہاں ایک مسلسل سفر ہے، جو کسی نتیجے کا محتاج نہیں۔

نہ غنیم جان کے چھوڑ دے، نہ رفیق جان کے آزما
یہ جو راہ ہے سرِ جستجو، اسے خاکِ دل میں کتاب دے

یہاں راستہ آزمائش نہیں بلکہ مطالعہ بن جاتا ہے۔ خاکِ دل میں کتاب رکھنا اس بات کی علامت ہے کہ سفر خود تربیت بن چکا ہے۔

نہ غبارِ نفس اسے بنا، نہ غزالِ نفس اسے بنا
یہ جو خوشبو ہے ترے جسم کی، اسے باغِ لمس کا خواب دے

مقطع میں شاعر خواہش کو تہذیب کے دائرے میں رکھتا ہے۔ خوشبو کو خواب بنانا اس بات کی دلیل ہے کہ جذبہ اگر ضبط میں رہے تو حسن میں ڈھل جاتا ہے۔

اختتامی تاثر

یہ غزل ذیشانؔ امیر سلیمی کو بجا طور پر اردو غزل کے ان شاعروں میں شامل کرتی ہے جن کے ہاں خاموشی بھی ایک مکمل زبان رکھتی ہے۔ شاعرِ ہجر کے طور پر وہ فراق کو نوحہ نہیں بناتے بلکہ شعور، وقار اور باطنی بالیدگی کا وسیلہ بناتے ہیں۔ یہ کلام جدید اردو غزل میں کلاسیکی تہذیب، صوفیانہ ضبط اور فکری پختگی کا ایک روشن حوالہ ہے۔ سنجیدہ قاری کے لیے یہ غزل محض مطالعہ نہیں بلکہ ایک دیرپا، خاموش اور گہرا باطنی تجربہ ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

Very Famous Poet In the World

Zeeshan Ameer Saleemi Shair-e-Hijr